Aik chota sa larka....Nazm
ایک چھوٹا سےلڑکا تھا میں جن دنوں
ایک چھوٹا سا لڑکا
تھا میں جن دنوں
اک میلے میں پہنچا
اُمکتا ہوا
جی مچلتا تھا اک اک
شے پر مگر
جیب خالی تھی کچھ مول
لے نہ سکا
لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سے لڑکا
تھا میں جن دنوں
خیر محرومیوں کے وہ
دن تو گئے
آج میلہ لگا پھر اُسی
شان سے
آج چاہوں تواک اک دکان
مول لوں
نا رسائی کا اب جی
میں دھڑکا کہاں
پر وہ چھوٹا سے الہڑ
سا لڑکا کہاں
(پاکستان کے عظیم اردو شاعر ابنِ انشاء)
Comments
Post a Comment