The Leader in me....



Bachou ma leadership or uski adaat

بچوں میں لیڈر شپ کی خصوصیات اور عادات کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے وہ عادات و خصوصیات درج ذیل ہیں۔ 
1)                   سچ بولنا
2)                             سننا
3)                    سیکھنا
4)                            لگن ،جذبہ ،جوش
5)                    تجسّس
6)                              صلاح کرنا
7)          ٹیم ورک
(1     سچ بولنا :۔
بچے من کے سچے بہت مشہور قول ہے ۔
          بچوں کی ساتھ لیڈرشپ عادات یا خصوصیات میں سے ایک خصوصیت "سچائی "ہے ۔ یا سچ بولنا ہے۔ بچے ہمیشہ بغیر کسی خوف و خطر کے سچ بولتے ہیں۔سچائی اصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہی ہوتی ہے ۔بچوں کی معصومیت کہہ لیں یا بچوں کا بھولا پن کہہ لیں یا یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ بچوں کو دنیا داری کی پرواہ نہیں ہوتی وہ بس سچ بولتے ہیں کیونکہ سچائی انسان کی فطرت میں ہوتی ہے۔ بچے تو سچے ہوتے ہی ہیں جہاں تک لیڈرشپ کی بات کی جائی تو لیڈرشپ کا مطلب ہو تا ہے قیادت   اور جس کی قیادت میں چلنا پڑتا ہے یا جس کی پیروی کی جائے اسے لیڈر کہتے ہیں ۔ لیڈر اگر سچا نہ ہو تو لیڈرشپ پر بہت سے سوالات اٹھ جاتے ہیں۔ اگر حقیقت میں ہمیں اپنے اند ر لیڈر شپ لانی ہے تو ہمیں بچوں کی اس عادت کو اپنانا ہوگا اور ہر حال میں سچ بولنا ہے ۔
(2         سننا:۔
           سننا بچوں کی لیڈرشپ کی عادات میں سے ایک اہم عادت  ہے اگر یوں کہا جائے کہ سننا لیڈرشپ کی اہم خصوصیت میں سے ہے جو بچوں میں دیکھی بھی جا سکتی ہے اور سیکھی بھی جاسکتی ہے۔ ہم اگر بچوں کو بغور مشاہدہ کریں تو ہمیں یہ بات واضع طور پر سمجھ آجائی گی کہ قانون فطرت ہے کہ بچہ پیدائش سے لیکر تقریبا تین سے چار سال تک صرف سنتا ہی ہے اگر بولتا ہے تو کچھ ادھورے الفاظ ہوتے ہیں لیکن وہ اردگر د کا مشاہدہ کرتا ہے اور سنتا ہےہر بات کو سن کر سمجھنے کی کو شش کرتا ہے۔
         ایک بار اپنے استاد محترم سے پوچھا کہ استاد محترم اللہ پاک نے ہمیں  کان دو دیے ہیں اور زبان ایک دی ہیں ۔ تو استاد محترم نے جو جواب دیا وہ میں یہاں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں  کہ  اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبان ایک دی ہے لیکن کان دواس لیے کہ ہمیں زیادہ زیادہ  سننا ہے اور بولنا کم ہے۔
         معزز قاریئن ہمیں لیڈر شپ کی عادات و خصوصیات کو اپنانے کے لیے بچوں کی اس عادت کو بھی اپنا نا ہو گا تا کہ ہم ایک بہتر لیڈر بن سکیں ۔اگر لیڈر میں سننے کی صلاحیت نہیں ہو گی تو وہ مسائل کا حل تلاش نہیں کر پائے گا۔
(2       سیکھنا  


    اگر آپ نے کبھی بچوں کو کھیلتے ہوئے ، کھانا کھاتے ہوئے ،لکھتے ہوئےاور دیگر کام کر تے ہوئے دیکھا ہو تو آپ نے یہ ضرور مشاہدہ کیا ہو گا کہ بچوں میں سیکھنے کی لگن ہو تی ہے ۔ بچے سوالات پو چھتے ہیں جو اس بات کی دلیل سمجھی جاتی ہے کہ وہ سیکھنے کی طرف راغب ہو رہا ہے۔ میں نے یہ بات تب سیکھی جب میں اپنے گھر میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا تو ہمارے گھر ماشاءاللہ بھتیجے اور بھتیجیاں ہیں تو ایک چھوٹی بھتیجی کودیکھا جس کے آگے اس کی امی نے پلیٹ میں کچھ چاول ڈال کر دیے اور ساتھ میں ایک چمچ ۔اب ہوا کیا کہ وہ چھوٹی سی گڑیا بڑے آرام سے چاول کی پلیٹ میں پہلے یونہی چمچ مارتی رہی ، پھر کوشش کی تو کچھ چاول اس کی چمچ میں آئیں  لیکن منہ میں لیجانے لگے تو پھر گر جاتے ۔مجھے اس کی اس پر ترس آرہا تھا ۔ میرادل کر رہا تھا کہ اس کو چاول کھلاؤ دوں لیکن میرے ایسا کرنے سے وہ گڑیا سیکھنے کے مرحلے سے قاصر ہو جاتی  ۔ میں بس  اس کا بغور مشاہدہ کرتا رہا کئی بارچھوٹی سی گڑیا چمچ سے چاول منہ تک لیجانے کی کو شش کرتی کبھی یو نہی گر جاتے کبھی ،ناک میں لیجاتی ، کبھی قمیص پر لگ جاتے ،کبھی ہاتھوں پر سارے گر جاتے لیکن میں خوش اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا جب وہ چھو ٹی سی گڑیا اپنی اس کاوش میں کامیاب ہو گئی ۔ اب وہ جب بھی چاول کھاتی ہے وہ آہستہ آہستہ اب چمچ سے چاول کھانا سیکھ چکی ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں اور بھی ہیں اور آپ نے بھی ایسا کئی بار مشاہدہ کیا ہو گا اگر نہیں تو اب دیکھیے گا۔
           سیکھنا انسان کا پیدائش سے لیکر مرنے تک عمل جاری رہتا ہے لیکن کچھ مجبوریوں یا عمر کے تقاضوں کی وجہ سے ہمارے اند ر سیکھنے کا جذبہ اور لگن کم ہوتی رہتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گےجیسے دقیانوسی خیالات کی زنجیرں ہمیں جکڑ لیتی ہے۔ اور اگر ہم ان سب سے باہر نکل بھی آئیں تو  شرم ہمارے اور سیکھنے کے درمیان حائل ہو جاتی ہے جو ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتی ۔انسان کی ترقی اور کامیابی میں سیکھنے کا کردرار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اور کاروباری اور پروفیشنل زندگی کی اگر بات کریں تو اس میں بھی سیکھنے کا عمل دخل بہت ہوتا ہے۔

4(                 لگن ،جوش اور جذبہ


      لگن ، جو ش اور جذبہ بچوں میں واضح طور پر دیکھا  اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی ہو بچوں میں جو ش او ر جذبہ آپکو نمایا ں نظر آتا ہے ۔ کھیل کو د میں  مصروف بچوں کو نہ تو اس وقت گرمی لگتی ہے اور نہ سردی ۔
    یہاں مجھے اپنے بچپن کی باتیں یاد آرہی ہیں۔ ہمارے ہاں  گرمیوں میں عموما  دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کرنے کا رواج ہے اسوقت بھی ہوتا تھا۔ہمیں گھر والے سلانے کے لیے لٹادیتے لیکن ہمیں تو کھیل کود نے میں مزہ آتا ہم گھر والوں سے نظریں چرا کر فورا کھیلنے کودنے کے لیے باہر گرمی میں نکل جاتے واہاں ہمارے جیسے اور بھی دوست پہلے سے موجود ہوتے انہیں بھی شاید ہماری طرح آرام سے بہتر اس وقت کھیل کود لگتی تھی۔
اس وجہ سے کئی بار گھر والوں کی  مار پیٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہم اس میں بھی جو ش اور جذبے کا مظاہرہ کرتے دیکھیں زیادہ مار کون کھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا
چاہے مار جتنی پڑ جاتی پھر بھی اپنے مشن اور مقصد میں بھرپور لگن اور جذبے کے ساتھ لگے رہتے ۔
یہاں ایک مثال اور دینا چاہو گا کہ بچوں کو سائیکل چلانے کا بہت شوق ہوتا ہے ۔اس شوق میں کئی بار چوٹیں بھی لگتی ،ڈانٹ بھی پڑتی لیکن تھوڑی دیر بعد پھر سائیکل چلانے کا جنون سوار ہوجاتا ہے۔ یہ سب اس بات کے دلائل ہیں کہ بچے جس کام کو کرنے کا ٹھان لیتے ہیں وہ کر کہ ہی چھوڑتے ہیں انہیں ناکامیوں کا ڈر خوف نہیں ستاتا۔ انہیں اس بات کی فکر نہیں ہو تی کہ لوگ  کیا کہیں گے۔ان میں آگے بڑھنے کی جستجو ،لگن ، جوش اور جذبہ دکھائی دیتا ہے جو انہیں مستقبل میں لیڈر شپ کی طرف لے جاتا ہے۔
    بہترین لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنا ہر کام لگن، جوش اور جذبے کے ساتھ کرتا ہے۔اور مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے ۔بغیر کسی ناکامی کے خوف کے ۔
جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا :۔
بڑھنا ہے ہمیں ہر قدم
جب تک ہے دم میں دم
ہو گی نہ کبھی ہمت نہ کم۔۔۔۔۔
اے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار
جستجو جو کرے وہ چھوئے آسمان  
            
محنت اپنی ہو گی پہنچان کبھی نہ بھولو۔
5(     تجسّس



          تجسّس ایسی چیز ہے جو بچوں کو آگے بڑھنے میں مد د دیتا ہے اور انہیں مزید سیکھنے میں بھی ان کی رہنمائی کر تا ہے۔بچوں کو زندگی میں بہت سے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دینے ہو تے ہیں اس ک لیے ان میں سیکھنے کی دلچپسی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہو تی ہے ۔آپ نے اکثر نوٹ کیا گیا ہو گا کہ بچے اگر سوالات پو چھیں ہم ان کا جواب دیتے ہیں وہ اور سوالات پو چھتے جاتے ہیں ۔ہر نئی اور انہیں عجیب نظر آنے والی چیز کے بارے میں جاننے کی کو شش میں لگے رہتے ہیں یا تو وہ سوالات پو چھے گے یا خود سے exploreکرتے نظر آتے ہیں ۔
          تجسّس انسان میں آگے بڑھنے کی لگن اور جستجوکو ابھارتی ہے ۔لیڈر شپ میں تجسّس کا ہونا بھی ایک لازمی عنصر ہے۔کیونکہ انسان کی فطرت میں قدرتی طور پر تجسّس پایا جاتا ہے ۔
6)     صلح کرنا


          میں نے اکثر اپنے اردگرد اور اپنے گھر میں اکثر بچوں کو آپس میں لڑتے دیکھا ہے ۔ بچے اکثر آپس میں لڑتے بھی ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے پھر سے دوبارہ اکٹھے کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جب لڑتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ اب ایک دوسرے کے قریب بھی نہ آئیں لیکن بچے من کے سچے ہو تے ہیں وہ سب کچھ بھلا کر پھر سے اکٹھے نظر آتے ہیں ۔ یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ بچے اکثر صلح کرنے میں دیر نہیں کرتے اور نہ وہ ایسا کرنے سے شرماتے ہیں ۔کیونکہ انہیں اس بات کا ڈر نہیں ستاتا کہ لو گ کیا کہیں گے ۔جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا جاتا ہے تو وہ زمانے کے زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے جس وجہ سے ہم صلح کرنے میں بھی شاید اکثر دیر کر دیتے ہیں جس سے ہم اپنے اچھےاچھے دوستوں سے اکثر دور ہو جاتے ہیں۔اتار چڑھاؤ انسانی زندگی کا ایک پہلو ہے لیکن اس سے ہمیں اپنوں کو اپنے پیاروں کو خودسے دور نہیں ہونے دینا چاہئے ۔


          لیڈرشپ کا مطلب ہوتا ہےسب کو ساتھ لیکر چلنا ضروری نہیں ہوتا کہ سب آپ سے خوش ہو اور سب آپ کے ساتھ خوشی خوشی چلنے کو تیار بھی ہو جائیں اگر کوئی ناراض ہے ہم سے تو ہمیں بھی اس وقت ان معصوم بچوں کی طرح جلدی سے صلح کر لینی چاہئے بغیر لوگو ں کی پروا کیے ہوئے ۔
7)           ٹیم ورک


 


      ٹیم ورک یعنی مل جل کر رہنا یا مل جل کر کام کرنا ٹیم ورک کہلاتا ہے۔انسان ازل سے ہی مل جل کے رہنے کا خواہشمند ہے ۔کیونکہ انسان ایک معاشرتی حیثیت رکھتا ہے ۔سائنس انسا ن کو سو شل انیمل کہتی ہے ۔اور اگر اس بات کو آپ مزید دیکھنا چاہئے یا پرکھنا چاہئے تو آپ بچوں کو بغور دیکھے تو وہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل رہنے میں زیادہ خوش نظر آتے ہیں ۔
ہمارے ہاں پنجابی میں ایک کہاوت کہی جاتی ہے ۔
ہان نوں ہان پیارا ہوندا ایں۔



یعنی بچے اکثر اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ رہنا کھیلنا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔بچے ایسے گھر میں جانا زیادہ پسند کرتے ہیں جہاں انکے ہم عمر بچے موجود ہو تے ہیں کبھی آپ نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہو تا ۔






Comments