har chamkti chiz sona nahi hota


ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہو تی

               ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص  اپنی سائنس کی کسی ریسرچ کی وجہ سے اپنی بیوی کے ساتھ جنگل میں جاتا ہے اسے واہاں کچھ جڑی بوٹیوں پر تحقیق کرنی ہوتی ہے ۔وہ جنگل میں جڑی بوٹیوں کی تلاش میں نکل جاتا ہے او ر اس کی بیوی واہاں خیمہ لگا نےمیں مصروف ہو جاتی ہے تاکہ واہاں قیام کیا جاسکےاور آرام کرنے میں دشواری نہ ہو۔
          اس شخص کی بیوی خیمہ میں اپنی ضروریات زندگی کی چیزیں رکھتی ہےاور اپنے خیمے کومختلف چیزوں سے سجاتی ہیں کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھ لیتی ہیں واہا ں قریب ہی بندروں کی ٹولی یہ سب منظر دیکھ رہے ہو تے ہیں ۔ خاتون نے سارا سامان اپنے خیمے میں رکھ دیا اور ساتھ ہی ایک مصنوعی سیب بھی سجا دیا بندر یہ سب دیکھ رہے ہو تے ہیں ۔جیسے ہی عورت ادھر ادھر ہوتی ہے تو ان بندروں میں سے ایک شرارتی بندر جھٹ سے وہ سیب چرا لیتا ہے ۔


          شرارتی بندر وہ مصنوعی سیب چرا کر اپنی ٹولی میں جاتا ہیں تو سب بند ر اسے بڑی حیرانی سے دیکھتے رہتے ہیں ۔ وہ شرارتی بند ر اس مصنوعی سیب کو کھانے کی کو شش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ ایسےکرنے میں رات ہو جاتی ہے وہ رات بھر اسی کوشش میں لگا رہتا ہے لیکن ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
اگلی صبح سب بند ادھر اُدھر خوراک کی تلاش میں چھلانگیں لگاتے لیکن وہ شرارتی بند اپنے ہاتھ میں وہی مصنوعی سیب لیکر بیٹھا ہے ۔چو نکہ اس کے ہاتھ میں وہ مصنوعی سیب ہوتا ہے اس لیے وہ دوسرے بندروں کی طرح درخت پر نہیں چڑھ سکتا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہتا ہے اس کی اس سیب پر پکڑ کمزور ہوتی جاتی ہیں سب بندر اسے حیرت سے تکتے رہتے ہیں لیکن وہ اپنے اس مصنوعی سیب کو لیکر بیٹھا رہتا ہے ۔
          شرارتی بند ر کو جب بھی بھوک محسوس ہونے لگتی وہ اس مصنوعی سیب کو کھانے کی کو شش کرتا لیکن کھا نہیں پاتا ۔ بھوک کی وجہ سے وہ کمزور ہوتا جارہا تھا حتی کہ اس کی پکڑ اس سیب پر کمزور سے کمزور ہوتی جار ہی تھی آخر کار وہ شرارتی بند ر اس مصنوعی سیب کے چکر میں  بھوک کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔
          محترم قارئین اس کہانی سے ہمیں اس بات کا اندازہ ہو جا تا ہے جو چیز دور سے جیسی نظر آتی ہے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں بھی ویسی ہی ہو۔
یہ دنیا کی مثال بھی اس مصنوعی سیب جیسی ہے جیسے ہاتھ میں پکڑا جاسکتا ہے لیکن اسے کھایا نہیں جا سکتا ہے کیونکہ وہ سیب نظر تو آرہا ہے لیکن حقیقی سیب نہیں ہے ۔ہم سب بھی اس دنیا کو حقیقی سیب سمجھ رہے ہیں اور اسے ہر کوئی حاصل کرنےمیں مگن ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے ہمیں بھی ظاہری رنگ روپ کے اور مصنوعی اور عارضی دنیا کو مستقل نہیں سمجھنا چاہئے اور ایسی چیزوں اور ایسے اعمال کا انتخاب کرنا چاہیے جو ہمیں حقیقی زندگی میں کام آئے۔


Comments