The painful story of a woman who lived in a glass cabin for 13 years that will blow your mind.

The painful story of a woman who lived in a glass cabin for 13 years that will blow your mind.

13 سال تک شیشے کے کیبن میں رہنے والی عورت کی درد ناک کہانی جسے سن کر آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں.

You may have heard of women living at home, in the office, college and hostel, but this is the painful story of a woman who has been imprisoned in a glass cabin for the last 13 years.
Matching
"This Spanish woman named Joanna Monoz had a sensitive allergy to various chemicals, and her allergy is so serious that we don't know when it will end."
Her husband was spraying germs on vegetables and fruits in the garden of his house, and all of a sudden he touched the leaves of these plants, which caused him to have this deadly allergy. Joanna from Cیزdiz, Spain, can hug her children twice a year. No one can meet them and if anyone has to meet them, they can go to their cabin after taking a shower with a special type of sanitizer and wearing pure cotton clothes.
According to doctors:
"Joanna's disease can't be cured, but if she loves life, she can spend her time in a glass cabin."
Joanna says:
"I strongly feel the distance of my children. They are not with me even though they are with me. My husband loves me dearly. That is why he has not left me till today. I am lucky to have such love. I found a husband who did it, but I can't even hug him. "

..............................................................................................


13 سال تک شیشے کے کیبن میں رہنے والی عورت کی درد ناک کہانی جسے سن کر آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں.

13 سال تک شیشے کے کیبن میں رہنے والی عورت کی درد ناک کہانی جسے سن کر آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں.

گھر میں رہنے والی، آفس ، کالج اور ہوسٹل میں رہنے والی عورتوں کے بارے میں تو آپ سب نے سنا ہی ہوگا لیکن یہ ایک ایسی عورت کی درد بھری کہانی ہے جو پچھلے 13 سال سے ایک شیشے کے کیبن میں قید ہے۔
مطابق
"جوانا مونوز نامی سپین کی یہ خاتون مختلف کیمیکلز کی وجہ سے حساس الرجی کا شکار ہوگئی تھیں ، اور ان کی یہ الرجی اتنی سنگین ہے کہ معلوم نہیں کب ختم ہوگی"۔
ان کے شوہر گھر کے باغیچے میں سبزیوں اور پھلوں پر جراثیم مار سپرے کر رہے تھے ، اور اچانک انھوں نے ان پودوں کے پتوں کو ہاتھ لگادیا تھا، جس کی وجہ سے ان کو یہ مہلک الرجی ہوگئی۔ سپین کے شہر کیڈیز سے تعلق رکھنے والی جوانا سال میں 2بار اپنے بچوں کو گلے مل سکتی ہیں۔ ان سے کوئی نہیں مل سکتا اور اگر کسی کو ان سے ملاقات کرنی ہو تو وہ خاص قسم کے سینیٹائزر سے نہا دھو کر خالص کاٹن کے کپڑے پہن کر ان کے کیبن میں جاسکتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق:
" جوانا کا یہ مرض حتمی طور پر ٹھیک نہیں ہوسکتا، لیکن اگر وہ زندگی سے محبت کرتی ہیں تو اسی طرح شیشے کے کیبن میں رہ کر اپنا وقت گزار سکتی ہیں"۔
جوانا کہتی ہیں کہ:
" مجھے شدت سے اپنے بچوں کی دوری کا احساس ہوتا ہے، وہ میرے پاس ہو کر بھی پاس نہیں ہیں، میرا شوہر مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے اسی لیئے آج تک مجھے چھوڑ کر نہیں گیا، میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے ایسا پیار کرنے والا شوہر ملا، لیکن میں اس سے بھی گلے نہیں مل سکتی"۔

Comments